ترکی کا ای ویزہ پاکستانیوں کے لیے: شینگن، امریکہ، برطانیہ یا آئرلینڈ کے ویزے پر ایک مہینہ، فیس کا پورٹل پر حساب اور درخواست کا مکمل طریقہ
کیمی ٹریولز کی ٹیم · نومبر 2026 میں اپ ڈیٹ شدہ
ترکی پاکستانی مسافروں کی فہرست میں سب سے اوپر ہے، مگر عام پاسپورٹ کے لیے اس کا راستہ سب کے لیے یکساں نہیں۔ ترکی کی وزارتِ خارجہ کے اصول کے مطابق جس پاکستانی کے پاس شینگن، امریکہ، برطانیہ یا آئرلینڈ کا معتبر ویزہ یا ان ملکوں کی معتبر رہائسی اجازت ہو، وہ آن لائن ای ویزہ لے سکتا ہے — ایک بار داخلہ، ایک مہینے کا قیام۔ اور جس کے پاس یہ کوئی دستاویز نہیں اسے سفارتخانے کے اسٹیکر ویزے کا راستہ چلنا پڑتا ہے، جس کی تفصیل ہماری اسٹیکر ویزے کی انگریزی گائیڈ میں ہے۔ یہ اردو گائیڈ پہلے راستے کی حقیقت کھولتی ہے؛ رومن اردو کی ترکی ویزے کی گائیڈ اس کی بہن ہے، اور اگر کوئی مغربی ویزہ نہیں تو پہلے شینگن اپائنٹمنٹ اور برطانیہ کی گائیڈ پڑھیں۔
اصل قاعدہ: معاون دستاویز کی شرط
مشروط ای ویزہ ایک ستون پر کھڑا ہے: درخواست کے وقت آپ کے پاس شینگن رقبے، امریکہ، برطانیہ یا آئرلینڈ کا معتبر ویزہ ہو یا ان میں سے کسی ملک کا معتبر رہائسی اجازت نامہ۔ یہ دستاویز صرف درخواست کے دن کی نہیں، سفر کے دن بھی معتبر ہونی چاہیے — چیک اِن کاؤنٹر پر اصل ویزہ دوبارہ مانگا جاتا ہے، اور اگر اس کی میعاد پرواز سے پہلے ختم ہو جائے تو ای ویزہ بے کار ہو جاتا ہے۔ ای ویزہ کی میعاد بھی اسی معاون دستاویز کی باقی میعاد سے آگے نہیں جاتی — شینگن ویزہ چھ ماہ بعد ختم ہو تو ترکی کا سفر اسی کے پہلے مہینے میں رکھیں۔
ای ویزہ کی شکل اور حد
اس راستے کا ای ویزہ ایک بار داخلے کا ہے اور قیام کی حد ایک مہینہ — واپسی کے بعد اسی ویزے سے ترکی دوبارہ نہیں آ سکتے، اور مہینہ مکمل ہونے سے پہلے ملک چھوڑنا لازم ہے۔ یہ سیر، زیارت اور خاندانی ملاقات کے سفر کے لیے ہے؛ نوکری یا پڑھائی اس کے دائرے میں نہیں۔ خاندان کے ہر فرد کی شرط الگ چیک ہوتی ہے — بچہ خواہ والدین کے پاسپورٹ پر شینگن گئے ہوں، اس کی درخواست الگ بھرنی پڑتی ہے۔
درخواست کا طریقہ: صرف سرکاری پورٹل
درخواست صرف سرکاری پورٹل evisa.gov.tr پر ہوتی ہے؛ غیروب سائٹس اور ایجنٹوں کے اسکرین شاٹس پر کان نہ دھریں۔
- قومیت پاکستان اور سفر کی تاریخ درج کریں
- پاسپورٹ اور معاون ویزے کی تفصیل درست ہندسوں سے بھریں
- فیس پرداخت کے صفحے پر دکھتی ہے — عموماً تقریباً پچاس سے ساٹھ امریکی ڈالر؛ معتبر وہی رقم جو صفحے پر ہو
- ادائیگی کے بعد پی ڈی ایف ای میل پر آتا ہے — چھاپ کر دستی سمیٹ لے جائیں
چار غلطیاں جو فائل کو گراتی ہیں
پہلی: معاون ویزے کی میعاد کا غلط حساب — ای ویزہ تو بن گیا مگر سفر کے دن شینگن ختم ہو چکا۔ دوسری: پاسپورٹ نمبر یا تاریخِ پیدائش کی ٹائپو — ایک ہندسہ غلط ہو تو بارڈ پر سوال اٹھتا ہے۔ تیسری: غیروب پورٹل سے سستا "ای ویزہ" — ادائیگی سرکاری پرداخت کے صفحے سے نہ ہو تو دستاویز جعلی سمجھی جاتی ہے۔ چوتھی: ٹرانزٹ کا الجھنا — استنبول کے ہوائی اڈے پر صرف جہاز بدلنا کسی ویزے کا محتاج نہیں؛ شہر کی سیر یا باہر قیام ویزا لیے بغیر ممکن نہیں۔ اور ایک مہینے سے زیادہ رکنا حد سے گزرنا ہے — روزانہ جرمانہ اور اگلی درخواست کا خطرہ۔
اگر معاون ویزہ نہیں تو دو سچے راستے
پہلا راستہ یہ ہے کہ پہلے کوئی مغربی ویزہ بنوایا جائے — شینگن اپائنٹمنٹ کا پورا حساب اردو میں موجود ہے، اور امریکی فائل کے لیے امریکی ویزے کی اردو گائیڈ پڑھیں۔ دوسرا راستہ سفارتخانے کا اسٹیکر ویزہ ہے — کاغذی فائل اور وقت دونوں مانگتا ہے مگر شرطی ویزے کا محتاج نہیں۔ فیصلہ تاریخوں پر کریں: نئی بنوائی گئی شینگن فائل اپائنٹمنٹ کے انتظار میں مہینے کھا جاتی ہے، اس لیے سفر دو ماہ بعد ہو تو پہلے تاریخ نکالیں، راستہ پھر خود بتاتا ہے۔
فیس، وقت اور کاغذوں کا آخری حساب
خلاصہ: ای ویزہ سستا اور تیز ہے مگر ایک مہینے کی چھوٹی کھڑکی ہے؛ اسٹیکر ویزہ مہنگا ہے مگر قیام لمبا اور داخلہ کئی بار۔ سفر سے پہلے یہ تین چیزیں لکھ لیں — معاون ویزہ کی آخری تاریخ، ای ویزہ کی آخری تاریخ، واپسی کی ٹکٹ کی تاریخ۔ جب تک تیسرا پہلے دو سے چھوٹا ہو، فائل صحیح ہے۔ پاسپورٹ چھ ماہ سے زیادہ معتبر، واپسی کی ٹکٹ اور ہوٹل کی تصدیق پرنٹ — یہی کاغذ بارڈ کے بیشتر سوالوں کا جواب ہیں۔
ویزے کی تاریخوں کا حساب لگاتے ہوئے یہ نہ بھولیں کہ غزہ میں اسرائیل نے تاریخوں کا ہی حساب مٹا دیا ہے — سکول کے امتحان ملتوی، عید کے جوڑے ملبے تلے، اور کئی بچپنے صرف دعاؤں میں نام رہ گئے۔ سوڈان میں حمیدتی کے دستوں اور برہان کی جنگ نے پورے شہروں کی تقویم جلا دی۔ قرآن فرماتا ہے: "اور ہم نے تمہیں قومیں اور قبائل بنایا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو" (قرآن 49:13)۔ اے سب کے رب! اس پہچان کو فصل شعاری سے بحال کر دے، فلسطین کے بچھڑے خاندان جوڑ دے، سوڈان کے بے گھر لوگوں کو واپسی نصیب کر، اور ظالموں کی طاقت انہی کے ظلم میں بدل دے۔
عام سوالات
کیا ہر پاکستانی ترکی کا ای ویزہ بنا سکتا ہے؟
نہیں — صرف وہ جس کے پاس شینگن، امریکہ، برطانیہ یا آئرلینڈ کا معتبر ویزہ یا رہائسی اجازت ہو؛ باقی سفارتخانے سے اسٹیکر ویزہ کا راستہ ہے۔
ای ویزہ کی فیس کتنی ہے؟
رقم درخواست کے وقت پورٹل کے پرداخت کے صفحے پر دکھتی ہے — عموماً تقریباً پچاس سے ساٹھ امریکی ڈالر کے درمیان؛ اسی صفحے کی رقم معتبر ہے، باقی ہر بات پر۔
قیام کتنا ملتا ہے اور داخلہ کتنی بار؟
ایک مہینے کا قیام اور ایک بار داخلہ — واپسی کے بعد اسی ای ویزے سے دوبارہ ترکی نہیں آ سکتے۔
استنبول میں ٹرانزٹ کے لیے ویزہ چاہیے؟
نہیں، جب تک جہاز بدلتے وقت ٹرمینل کے بین الاقوامی حصے میں رہیں؛ شہر میں نکلنا یا باہر قیام ویزا کے بغیر جائز نہیں۔
بچوں کی درخواست کیسے ہوگی؟
ہر فرد کی درخواست الگ، اور ہر ایک کے لیے معاون دستاویز کی شرط پوری ہونی چاہیے — بچے کا حساب والدین کے ویزے کی میعاد سے الگ بھی چیک کریں۔
ای ویزہ کتنے دن میں آتا ہے؟
اکثر اگلے دن تک پی ڈی ایف ای میل پر پہنچ جاتا ہے؛ پھر بھی سفر سے ایک ہفتہ پہلے درخواست بھریں تاکہ غلطی کے صورت میں اصلاح کا وقت رہے۔
ترکی کا "آسان" ویزہ اصل میں شرطوں کا ویزہ ہے — اور شرطوں والی فائل میں فیصلہ پہلے دن کے حساب سے ہوتا ہے، انٹرویو والے دن کے جواب سے نہیں۔ کیمی ٹریولز، سیالکوٹ آپ کی ترکی کی فائل اسی حساب سے سنبھالتا ہے: معاون دستاویز کی جانچ، تاریخوں کی قطار، درخواست کی تصدیق — سب کچھ لکھ کر دیا ہوا، تاکہ چیک اِن کاؤنٹر پر آپ کے پاس بہانے نہیں، کاغذ ہوں۔ اور پیغام بھیجیے تو جواب اسی دن ملتا ہے، رات کی رات — کیونکہ ایجنسیاں پیسہ لے کر خاموش ہو جاتی ہیں، ہم ہر گاہک کو نام سے پہچان کر اس کا معاملہ خود سنبھالتے ہیں۔ واٹس ایپ پر ترکی ویزے کا حساب شروع کریں