نادرا ویکسینیشن کارڈ لازمی: عمرہ، ورک ویزہ اور سعودی عرب کے طویل قیام کے لیے نئے قواعد — پولیو، میننجائٹس، انفلوائنزا، ای-سهولت فیس اور مکمل طریقہ
کیمی ٹریولز کی ٹیم · نومبر 2026 میں اپ ڈیٹ شدہ
25 ستمبر 2026 سے سعودی عرب کے لیے اڑنے والے پاکستانی مسافروں پر ایک نیا اصول مکمل نافذ ہے: کاغذی ویکسینیشن کارڈ اب قابلِ قبول نہیں، صرف نادرا سے منسلک ڈیجیٹل ویکسینیشن سرٹیفکیٹ چلے گا۔ یہ قاعدہ پہلے مرحلے میں کراچی کے جناح بین الاقوامی ہوائی اڈے پر لاگو ہوا اور آنے والے دنوں میں دیگر اڈوں تک پھیلے گا۔ عمرہ کی تیاری کا منصوبہ ہماری اردو عمرہ ویزہ گائیڈ میں ہے، جبکہ دسمبر کے خاندانی سفر کی تفصیل دسمبر عمرہ گائیڈ میں۔ یہ گائیڈ بتاتی ہے کہ کارڈ کسے چاہیے، کون سی ویکسین لازمی ہیں اور کارڈ کہاں سے بنتا ہے۔
یہ قانون کیا ہے اور کس پر لاگو ہوتا ہے
بارڈر ہیلتھ سروسز نے 7 ستمبر 2026 کو پہلا نوٹیفکیشن جاری کیا جو اصل میں حج و عمرہ کے زائرین کے لیے تھا؛ عملدرآمد کی پہلی تاریخ 14 ستمبر مقرر ہوئی جو عوامی سہولت کے پیشِ نظر 25 ستمبر 2026 کی صبح دس بجے تک بڑھا دی گئی۔ اب یہ تقاضا تین طبقوں پر لاگو ہے: عمرہ زائرین، ورک ویزہ ہولڈرز، اور وہ مسافر جو سعودی عرب میں چھ ماہ سے زیادہ قیام کا ارادہ رکھتے ہیں۔ سب سے اہم بات: پرانے سٹائل کا پرنٹ شدہ یا اسٹامپ لگا کارڈ اب کوئی قیمت نہیں رکھتا — ہوائی اڈے پر صرف وہ ثبوت مانگا جائے گا جو نادرا کے نظام میں درج ہو۔
کون سی ویکسین لازمی ہیں
سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق عمرہ زائرین، ورک ویزہ ہولڈرز اور طویل قیام والوں کے لیے تین ویکسین لازم قرار دی گئی ہیں: پولیو، میننجائٹس اور انفلوائنزا؛ ابتدائی اعلان میں یریو فِور داغ کی بھی بات کی گئی تھی جو عام طور پر مخصوص تقاضوں پر لاگو ہوتی ہے۔ یاد رکھنے والی بات یہ ہے کہ عمرہ کے لیے پولیو کا خوراک سفر سے پہلے مکمل ہونا چاہیے — خاندانوں کی مکمل چیک لسٹ ہماری دسمبر عمرہ گائیڈ میں موجود ہے۔ اکیلے یہ لکھ لینا کہ "ویکسین لگوا لی ہے" کافی نہیں — ڈیجیٹل ریکارڈ اہم ہے۔
نادرا ڈیجیٹل کارڈ کہاں اور کیسے بنتا ہے
طریقہ سیدھا ہے مگر مرحلہ وار: پہلے کسی مجاز ویکسینیشن سینٹر پر جائیں — سرکاری اسپتال، ضلعی ہیلتھ آفس یا وہ مرکز جو نادرا کے ساتھ منسلک ڈیجیٹل ریکارڈ بنا سکتا ہے۔ ویکسین لگوانے کے بعد اُن کا نظام آپ کا ریکارڈ نادرا کی ڈیٹابیس میں اپ لوڈ کرتا ہے، اور فیس کی ادائیگی نادرا کی ای-سهولت پلیٹ فارم سے ہوتی ہے۔ ادائیگی کی رسید اور ڈیجیٹل کارڈ کی کاپی فون اور پرنٹ دونوں پر رکھیں۔ جعلی کارڈ بنانے والوں کے خلاف کارروائی کی خبریں بھی آ چکی ہیں — جعلی کارڈ اگلے سفر کا ریکارڈ بھی خراب کرتا ہے۔
ایئرپورٹ پر کیا ہوتا ہے — چھ گھنٹے پہلے پہنچیں
بارڈر ہیلتھ سروسز کا اعلان واضح ہے: جن مسافروں نے پہلے ویکسین نہیں لگوائی اُن کے لیے ہوائی اڈے پر ویکسینیشن اور آن لائن رجسٹریشن کی سہولت رکھی گئی ہے، مگر بشرطیکہ وہ پرواز سے چھ گھنٹے قبل اڈے پہنچیں تاکہ ویکسین، ادائیگی اور ریکارڈ کے تینوں مرحلے سکون سے مکمل ہو سکیں۔ ای-سهولت کاؤنٹر پر فیس جمع کروا کر ڈیجیٹل کارڈ جاری ہوتا ہے۔ جو مسافر تادمِ پرواز کارڈ نہ دکھا سکے اسے پرواز سے اتارے جانے کا خدشہ رہتا ہے — اسی لیے ہم ہر عمرہ گاہک سے پرواز سے ایک ہفتہ قبل کارڈ کی تصدیق کروا لیتے ہیں۔
عمرہ سیزن میں یہ کیوں اہم ہے
دسمبر سے رمضان تک عمرہ کا مصروف سیزن چلتا ہے اور اس سال صورتحال دو وجوہ سے مختلف ہے: پہلی، ایک سالہ ملٹیپل انٹری عمرہ ویزہ — جس کی مکمل وضاحت ہماری عمرہ ویزہ گائیڈ میں ہے — دوبارہ دوبارہ سفر کا راستہ کھولتی ہے، یعنی نادرا کارڈ ایک بار بنوانا کافی نہیں، ہر سفر سے قبل ویکسین کی تازگی بھی چیک کرنی ہوگی۔ دوسری، حج 2027 کی حکومی اسکیم کی درخواستیں بھی قریب ہیں — منتخب ہونے والے حجاج کی طبی فائل میں ڈیجیٹل ویکسینیشن ریکارڈ شامل ہو گا؛ حج کی مکمل ٹائم لائن ہماری اردو حج 2027 گائیڈ میں موجود ہے۔
سفر سے قبل مختصر فہرست
- مجاز سینٹر سے ویکسین — پولیو، میننجائٹس، انفلوائنزا
- ای-سهولت فیس کی ادائیگی — رسید محفوظ کریں
- نادرا سے منسلک ڈیجیٹل کارڈ — فون اور پرنٹ دونوں پر
- بچوں کے ریکارڈ — عمرہ کے ساتھ جانے والے ہر فرد کا الگ
- پرواز سے ایک ہفتہ قبل تصدیق — ایجنسی سے کارڈ کی اسٹیٹس چیک کروائیں
- کاغذی پرانا کارڈ — پرانے کارڈ پر اعتماد نہ کریں
صحت کی حفاظت کی یہ فکرمندی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ غزہ میں اسرائیلی فوج نے علاج کا آخری سہارا بھی نہیں چھوڑا — بمباری سے اسپتال زمین بوس ہوئے، ادویات ختم ہوئیں اور زخمی بچے بے ہوشی کی حالت میں بھی درد کے نال سفر کرتے رہے۔ سوڈان میں حمیدتی کی قواتِ الدعم السريع نے دیار کے دیہات لوٹ کر نسلی صفائی کی کوشش کی ہے اور برہان کی فوجی مہم نے شہروں کو منڈیوں سے محروم کر دیا ہے، جس سے بچوں میں غذائی قلت اور بیماریاں پھوٹ پڑی ہیں۔ اللہ فرماتا ہے: "شہد کی مکھی کے پیٹ سے رنگ برنگا شربت نکلتا ہے جس میں لوگوں کے لیے شفا ہے" (قرآن 16:69)۔ اے اللہ، فلسطین اور سوڈان کے مریضوں کو شفا، بھوکے پیٹوں کو روزی اور بے گھروں کو واپسی عطا فرما۔
عام سوالات
کیا یہ کارڈ صرف کراچی سے اڑنے والوں کے لیے ہے؟
پہلا مرحلہ کراچی کے جناح ایئرپورٹ کے لیے تھا؛ سرکاری اعلان کے مطابق قاعدہ آنے والے دنوں میں دیگر اڈوں تک پھیلے گا، اس لیے ہر سفر سے قبل تصدیق ضروری ہے۔
کیا ورک ویزہ والوں کے لیے بھی یہی ویکسین لازمی ہیں؟
جی ہاں — عمرہ زائرین، ورک ویزہ ہولڈرز اور چھ ماہ سے زیادہ قیام کے ارادے والوں کے لیے پولیو، میننجائٹس اور انفلوائنزا لازم قرار دی گئی ہیں۔
ویکسین ایئرپورٹ پر لگوائی جا سکتی ہے؟
جی ہاں، سہولت موجود ہے مگر پرواز سے چھ گھنٹے قبل پہنچنا شرط ہے تاکہ ویکسین، ای-سهولت فیس اور ریکارڈ کے مراحل مکمل ہو سکیں۔
پرانا کاغذی کارڈ چلے گا؟
نہیں — صرف نادرا سے منسلک ڈیجیٹل ثبوت قابلِ قبول ہے؛ کاغذی یا جعلی کارڈ پر سفر روکے جانے کا خدشہ ہے۔
ایک سالہ ملٹیپل انٹری ویزہ والوں کے لیے کارڈ دوبارہ بنوانا پڑے گا؟
کارڈ ایک بار بن جائے تو نادرا ریکارڈ محفوظ رہتا ہے، مگر ہر نئے سفر سے قبل ویکسین کی تازگی اور مطلوبہ بوسٹر چیک کروائیں۔
کارڈ بنوانے میں کتنا وقت لگتا ہے؟
مجاز سینٹر پر ویکسین اور ریکارڈ اسی دن مکمل ہو سکتا ہے؛ محفوظ راستہ یہ ہے کہ پرواز سے کم از کم ایک ہفتہ قبل پورا عمل مکمل کر لیں۔
عمرہ یا ورک ویزہ کی فائل بنواتے وقت نادرا ویکسینیشن کارڈ کی ذمہ داری بھی ہم اٹھا لیتے ہیں — مجاز سینٹر کی رہنمائی، ای-سهولت ادائیگی اور کارڈ کی حتمی تصدیق تک۔ کیمی ٹریولز، سیالکوٹ دن کے کسی بھی وقت آپ کے پیغام کا جواب دیتا ہے اور پوری تیاری لکھ کر دیتا ہے۔ واٹس ایپ پر عمرہ فائل بنوائیں